ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں اور اب تو ’ جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کرنے والے بچے چالاک ‘ سے زیادہ ذہین گردانے جاتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف اشیا اپنی ماہیت بدل دیتی ہیں بلکہ گزشتہ کل کی اقدار ہی کے نہیں لفظوں کے […]

 ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں Read Post »

  اب تو ہر شخص نے چہرے پہ لہو پہنا ہے

اب تو ہر شخص نے چہرے پہ لہو پہنا ہے بہت دنوں کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن پشاور مرکز جانا ہوا تو اس مرکز میں بیتا ہوا سارا زمانہ جیسے آنکھوں کے سامنے آ گیا، فورٹ روڈ سے جب یہ مرکز موجودہ عمارت میں منتقل ہوا تو فنکار،پیشکار اور انتظامیہ سب بہت خوش تھے اردو

  اب تو ہر شخص نے چہرے پہ لہو پہنا ہے Read Post »

 دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار

دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار ڈینور ائر پورٹ سے اڑان بھرنے کے بعد سے لے کر اب تک مجھے لیپ ٹاپ کھولنے کا موقع نہیں ملا، یہی خود سے طے کیا تھا کہ اب پشاور پہنچ کر ہی لیپ ٹاپ کا بیگ کھولوں گا اگر چہ مختلف ائرپورٹس کے سیکیورٹی زونز سے گزرتے وقت لیپ

 دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار Read Post »

 نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون

نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون اب کے پشاور سے مجھے نکلے ہوئے کم و بیش چھے ماہ ہونے کو آئے ہیں اس لئے بہت سے دوستوں کی طرف سے مسلسل پیار بھرے پیغامات بھی مل رہے ہیں اور کچھ دوست فون پر بھی یاد دلاتے رہتے ہیں کہ سفر طویل ہو

 نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون Read Post »

 اب میں ہوں او ر ماتم ِ یک شہر ِ آرزو

اب میں ہوں او ر ماتم ِ یک شہر ِ آرزو وقت مٹھی میں پکڑی ریت کی طرح لمحہ لمحہ گزرتا جارہا ہے اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے دن اور رات ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہوئے مہ و سال میںڈھل جاتے ہیں اسد اللہ خان غالب کہتے ہیں۔ رَو میں ہے رخش ِ عمر ،

 اب میں ہوں او ر ماتم ِ یک شہر ِ آرزو Read Post »

 عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو پشاور صدر کی شام کبھی بہت بھیدوں بھری ہوا کرتی تھی لگتا تھا کہ پورا پشاور ہی صدر کے بازاروں ،شاہراو¿ں اور ریستورانوں میں امڈ آتا ، فوارہ چوک سے جالندھر سویٹ ہاو¿س سے ہوتے ہوئے جناح سٹریٹ ( گورا بازار ) میں اور وہاں سے نکل

 عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو Read Post »

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا یہ کاتک کا مہینہ ہے جو گلابی جاڑے کا آ غاز ہو تا ہے اب کے گرمی کا موسم دیر تک رکا رہا لیکن اب موسم معتدل ہے یہی موسم پت جھڑ کا بھی ہے اس موسم کی ہوا درختوں کے زرد پتے گرانے پر مامور

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا Read Post »

 اِدھر ا±دھر سے کئی آ رہی ہیں آوازیں

اِدھر ا±دھر سے کئی آ رہی ہیں آوازیں عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی میں بدلاو¿ پر گزشتہ کچھ برسوں سے بہت بات ہو رہی ہے، لیکن اس کے لئے کوئی مناسب لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا، ماحول میں ان دنوں گرمی کا عمل دخل بڑھتا جارہا ہے اور جن گرم مرطوب علاقوں میں گرمی

 اِدھر ا±دھر سے کئی آ رہی ہیں آوازیں Read Post »

 اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے

اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے حلقہ ارباب ذوق پسکاٹ وے نیو جرسی امریکہ کے سیکرٹری شاعر و افسانہ نگار ڈاکٹر عامر بیگ کے شعری مجموعہ ’ محبت استخارہ ہے‘ کی تقریب رونمائی ستمبر کی 9 ویں شام کو ہو نا تھی اس لئے ارادہ یہی تھا کہ لندن سے پہلے نیو

 اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے Read Post »

Scroll to Top