آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے

آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کیا کچھ بدل گیا،قصبے شہر گلیاں گھر تو ایک طرف یار لوگوں کے طرز زندگی اور رویوں میں بھی ایک واضح بدلاؤ آ گیا،زمانہ بدلتا نہیں ہاں آگے ضرور بڑھتا ہے اور اس عمل میں ضرور تھوڑی بہت تھوڑ پھوڑ شکست و […]

 آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے Read Post »

 یہ اک اشارہ ہے آفات ِ نا گہانی کا۔۔۔۔

یہ اک اشارہ ہے آفات ِ نا گہانی کا۔۔۔۔ سیانے کہتے ہیں کہ اس دنیا میں رہنا ایک الگ سے ہنر اور آرٹ کا متقاضی ہے،اور یہ ہنر آپ کو فطرت ہر لمحہ مختلف حوالوں سے سکھا رہی ہوتی ہے بس اس میں بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم فطرت کے اشاروں سے

 یہ اک اشارہ ہے آفات ِ نا گہانی کا۔۔۔۔ Read Post »

محبت کا دلوں میں بیج اب بو نا ضروری ہے 

محبت کا دلوں میں بیج اب بو نا ضروری ہے اب تو خیر مل بیٹھنے کی فرصتیں خواب و خیال ہو گئیں ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے جب شہروں اور قصبوں میں ایک گہما گہمی کی سی کیفیت تھی ان دنوں کی مصروفیات کچھ میکانکی انداز میں ڈھل چکی تھیں، کار جہاں نے ہر شخص

محبت کا دلوں میں بیج اب بو نا ضروری ہے  Read Post »

 اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں۔۔۔

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں۔۔۔ اور اب تو ہر نیا دن نئے مسائل اور نئی الجھنیں لے کر طلوع ہو رہا ہے،معاشرتی اور معاشی بے چینی سے لے کر سیاسی اور ریاستی پیچیدگیوں تک ایک ختم نہ ہونے والا اضطراب ہے کہ فربہ ہوتا چلا جا رہا ہے، چلئے ’رموز مصلحت

 اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں۔۔۔ Read Post »

 میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔۔۔۔

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔۔۔۔ سیانے کہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص جب بہتے ہوئے پانی میں ایک پاؤں رکھتا ہے تو اسی پانی میں دوسرا پاؤں نہیں رکھ سکتا کیونکہ تب تک پہلا پانی بہت آگے بڑھ چکا ہو تا ہے زندگی بھی اسی طرح بہے جا رہی ہے جو کل تھا

 میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔۔۔۔ Read Post »

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا۔۔۔۔

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا۔۔۔۔ اور ایک خبر یہ بھی ہے کہ خیبر پختونخوا کے پولیس سٹیشنز کے روایتی ” تھانہ کلچر “ کو تبدیل کرنے اور تعلیم یافتہ محرر صاحبان کی تعیناتی کو یقینی بنانے کےلئے انسپکٹر جنرل آف پولیس ثناءاللہ عباسی کی ہدایت پر موجو د و میسر

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا۔۔۔۔ Read Post »

 نام منظو ر ہے تو فیض کے اسباب بنا 

نام منظو ر ہے تو فیض کے اسباب بنا اور اب تو ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں سانس لینے میں تو شاید کوئی وقت لگ جائے مگر تازہ یا فوری خبر وں کی بوچھاڑ میں کوئی وقفہ نہیں ہو تا مسلسل اور لگا تار خبریں ہماری سماعتوں میں انڈیلی جارہی ہوتی

 نام منظو ر ہے تو فیض کے اسباب بنا  Read Post »

ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تما شا کیسا لگتا ہے

ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تما شا کیسا لگتا ہے پھاگن کے بادلوں کو بہت دیر سے یاد آیا ہے کہ انہیں گرجنا اور برسنا بھی ہے اگر چہ اس موسم کا مزاج شدت کی بارشوں والا تو نہیں ہوا کرتا لیکن موسم کو کروٹ بدلنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے‘ فراز نے

ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تما شا کیسا لگتا ہے Read Post »

راس آئی ہے خامشی ہم کو

راس آئی ہے خامشی ہم کو موسم بہار کے آنے کی چاپ اب رفتہ رفتہ نمایاں ہونے لگی ہے موسم کھلنے لگا ہے دلوں میں ایک کشادگی کا احساس پیدا ہونے لگا ہے ہوائے خوشگوار مشام دل و جان معطر کر رہی ہے،کھیتوں کھلیانو ں سے لے کر گھروں کے در و دیوار تک سبزے

راس آئی ہے خامشی ہم کو Read Post »

Scroll to Top