جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں 

جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں جن دنوں میں کوہاٹ روڈ کی سرکاری رہائش گاہ گلشن رحمن میں تھا تو ایک شام میرے پاس ہمدرد فاؤنڈیشن کے ایک ہنس مکھ عزیز دوست آئے اور حسب معمول ہم کھلنڈرے موڈ میں بات چیت کر رہے تھے، وقفے وقفے سے بلند بانگ قہقہے بھی گفتگو کو […]

جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں  Read Post »

 وطن کے نام ہی ساری محبتیں رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وطن کے نام ہی ساری محبتیں رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ تیرہ دنوں سے چودہ اگست کو منانے کی تیاریاں گھروں اور گلی کوچوں سے لے کراخبارات، ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا پر محبت، عقیدت، دلجمعی اور پوری توانائی کے ساتھ جاری ہیں، چمکتے دمکتے خوبصورت چہروں والے چھوٹے بچوں کا جوش و خروش تو ماحول کو بہت

 وطن کے نام ہی ساری محبتیں رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Read Post »

 غرض کہ کاٹ دئیے زندگی کے دن اے دوست۔۔۔۔۔۔۔

غرض کہ کاٹ دئیے زندگی کے دن اے دوست۔۔۔۔۔۔۔ زندگی میں بہت سے ایسے کردار وں سے واسطہ پڑتا ہے جن سے ملاقات چند لمحوں کی ہوتی ہے مگر وہ دیر تک یاد رہتے ہیں یا پھر خواہی نخواہی تنہائیوں میں در آ تے ہیں اور دیر تک پھر سرشار رکھتے ہیں،ستر کی دہائی کے

 غرض کہ کاٹ دئیے زندگی کے دن اے دوست۔۔۔۔۔۔۔ Read Post »

 راہ تکتی رہ گئیں پگڈنڈیاں بارش کی شام

راہ تکتی رہ گئیں پگڈنڈیاں بارش کی شام  وہ جو یار لوگوں کو مون سون کے بادلوں سے ہمیشہ یہی شکایت رہتی ہے کہ وہ چاروں او ر چھینٹے اڑاتے پھرتے ہیں مگر پشاور کے حصے کے آسمان پر کبھی دل کھول کر برستے نہیں ہیں ان کی یہ شکایت جمعرات اور جمعہ کی درمیانی

 راہ تکتی رہ گئیں پگڈنڈیاں بارش کی شام Read Post »

 مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے مون سون کے بادلوں نے پشاور کے باسیوں کی عید قربان کا پہلا دن بہت ہی خوشگوار بنادیا تھا۔شنید ہے کہ بادل دل کھول کر برسے،میں حسب معمول عید کرنے اپنے گاؤں (اکوڑہ خٹک) میں تھا، عید کی صبح اور اس سے پہلے کی رات ساون کی بارشوں نے

 مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے Read Post »

 اب بوئے گل نہ باد ِ صبا مانگتے ہیں لوگ

اب بوئے گل نہ باد ِ صبا مانگتے ہیں لوگ  موسم گرما کا ہو اور آغاز ساون کا ہو تو ذہن میں تیز ہوائیں بادل رم جھم بارش اور عمدہ پکوان ہلچل سی مچانے لگتے ہیں اور انہی موسموں میں منچلوں کے دلوں میں باغوں اور پہاڑوں کی اور سیر سپاٹے کیلئے جانے کی اُمنگیں

 اب بوئے گل نہ باد ِ صبا مانگتے ہیں لوگ Read Post »

  بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا  کہتے ہیں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، دراصل یہ روز مرہ،محاورے اورضرب الامثال یوں ہی ہماری زندگی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ نہیں بہہ رہے ہوتے ان کے پیچھے کئی مہ

  بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا Read Post »

  پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا

پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا اور اب آہستہ آہستہ راستوں اور بازاروں میں قربانی کے جانور اپنی بہار دکھلانے لگے ہیں، ابھی تو شروعات ہیں پھر جب ان کی تعداد زیادہ ہو جائے گی تو سرکار کو یاد آنے لگے گا کہ یہ تو فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والوں کے

  پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا Read Post »

 تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا ۔۔۔

تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا ۔۔۔ یادش بخیر اباسین آرٹس کونسل کا دفترجن دنوں عجائب گھر کے پیچھے ایک بڑے ہال اور بغیر چھت کے آڈیٹوریم میں تھا ان دنوں میں اس ہال اور اڈیٹوریم میں ادبی اور ثقافتی زندگی پر جیسے بہار آئی ہوئی تھی،یہ ساٹھ کی دہائی کے آخری آخری

 تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا ۔۔۔ Read Post »

Scroll to Top