راہ تکتی رہ گئیں پگڈنڈیاں بارش کی شام

راہ تکتی رہ گئیں پگڈنڈیاں بارش کی شام  وہ جو یار لوگوں کو مون سون کے بادلوں سے ہمیشہ یہی شکایت رہتی ہے کہ وہ چاروں او ر چھینٹے اڑاتے پھرتے ہیں مگر پشاور کے حصے کے آسمان پر کبھی دل کھول کر برستے نہیں ہیں ان کی یہ شکایت جمعرات اور جمعہ کی درمیانی […]

 راہ تکتی رہ گئیں پگڈنڈیاں بارش کی شام Read Post »

 مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے مون سون کے بادلوں نے پشاور کے باسیوں کی عید قربان کا پہلا دن بہت ہی خوشگوار بنادیا تھا۔شنید ہے کہ بادل دل کھول کر برسے،میں حسب معمول عید کرنے اپنے گاؤں (اکوڑہ خٹک) میں تھا، عید کی صبح اور اس سے پہلے کی رات ساون کی بارشوں نے

 مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے Read Post »

 اب بوئے گل نہ باد ِ صبا مانگتے ہیں لوگ

اب بوئے گل نہ باد ِ صبا مانگتے ہیں لوگ  موسم گرما کا ہو اور آغاز ساون کا ہو تو ذہن میں تیز ہوائیں بادل رم جھم بارش اور عمدہ پکوان ہلچل سی مچانے لگتے ہیں اور انہی موسموں میں منچلوں کے دلوں میں باغوں اور پہاڑوں کی اور سیر سپاٹے کیلئے جانے کی اُمنگیں

 اب بوئے گل نہ باد ِ صبا مانگتے ہیں لوگ Read Post »

  بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا  کہتے ہیں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، دراصل یہ روز مرہ،محاورے اورضرب الامثال یوں ہی ہماری زندگی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ نہیں بہہ رہے ہوتے ان کے پیچھے کئی مہ

  بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا Read Post »

  پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا

پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا اور اب آہستہ آہستہ راستوں اور بازاروں میں قربانی کے جانور اپنی بہار دکھلانے لگے ہیں، ابھی تو شروعات ہیں پھر جب ان کی تعداد زیادہ ہو جائے گی تو سرکار کو یاد آنے لگے گا کہ یہ تو فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والوں کے

  پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا Read Post »

 تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا ۔۔۔

تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا ۔۔۔ یادش بخیر اباسین آرٹس کونسل کا دفترجن دنوں عجائب گھر کے پیچھے ایک بڑے ہال اور بغیر چھت کے آڈیٹوریم میں تھا ان دنوں میں اس ہال اور اڈیٹوریم میں ادبی اور ثقافتی زندگی پر جیسے بہار آئی ہوئی تھی،یہ ساٹھ کی دہائی کے آخری آخری

 تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا ۔۔۔ Read Post »

 آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے

آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کیا کچھ بدل گیا،قصبے شہر گلیاں گھر تو ایک طرف یار لوگوں کے طرز زندگی اور رویوں میں بھی ایک واضح بدلاؤ آ گیا،زمانہ بدلتا نہیں ہاں آگے ضرور بڑھتا ہے اور اس عمل میں ضرور تھوڑی بہت تھوڑ پھوڑ شکست و

 آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے Read Post »

 یہ اک اشارہ ہے آفات ِ نا گہانی کا۔۔۔۔

یہ اک اشارہ ہے آفات ِ نا گہانی کا۔۔۔۔ سیانے کہتے ہیں کہ اس دنیا میں رہنا ایک الگ سے ہنر اور آرٹ کا متقاضی ہے،اور یہ ہنر آپ کو فطرت ہر لمحہ مختلف حوالوں سے سکھا رہی ہوتی ہے بس اس میں بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم فطرت کے اشاروں سے

 یہ اک اشارہ ہے آفات ِ نا گہانی کا۔۔۔۔ Read Post »

محبت کا دلوں میں بیج اب بو نا ضروری ہے 

محبت کا دلوں میں بیج اب بو نا ضروری ہے اب تو خیر مل بیٹھنے کی فرصتیں خواب و خیال ہو گئیں ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے جب شہروں اور قصبوں میں ایک گہما گہمی کی سی کیفیت تھی ان دنوں کی مصروفیات کچھ میکانکی انداز میں ڈھل چکی تھیں، کار جہاں نے ہر شخص

محبت کا دلوں میں بیج اب بو نا ضروری ہے  Read Post »

Scroll to Top