جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے ، وہ لوگ

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے ، وہ لوگ جاڑے کی رت اس وقت پورے جوبن پر ہے تاہم پشاور میں ایک چھینٹا پڑنے کے بعد خنکی میں وہ کاٹ نہیں رہی ہے جتنی اس موسم میں ہوا کرتی تھی اور یہ اس لحاظ سے ایک نیک فال ہے کیونکہ پشاور میں […]

 جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے ، وہ لوگ Read Post »

  ہم بھی سادہ ہیں ا±سی چال میں آ جاتے ہیں

ہم بھی سادہ ہیں ا±سی چال میں آ جاتے ہیں یادش بخیر یہ ستر کی دہائی کے اوائل کی بات ہے میں ان دنوں نظامت تعلیمات سے جڑے ہوئے دو دوستوں محمد یعقوب مرحوم اور محمد یوسف عاصی کے ہمراہ سول ڈیفنس اکیڈیمی لاہور میںہونے والے فائر آفیسر کورس کے لئے لاہور جا رہا تھا

  ہم بھی سادہ ہیں ا±سی چال میں آ جاتے ہیں Read Post »

 اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے گزشتہ کل ایک دوست نے مولانا عبد الماجد دریابادی کی ایک دلچسپ تحریر بھیجی، اس میں انھوں نے اپنے زمانے کے ڈاکٹرز کے حوالے سے لکھا ہے کہ ٓج کل سب سے اچھا اور قابل ڈاکٹر اسے نہیں سمجھا جاتا جو اپنے فن کا ماہر ہو بلکہ اس

 اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے Read Post »

 ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں روزانہ آپریٹ ہونے والی کم و بیش چوالیس ہزار فلائیٹس سے لگ بھگ تین کروڑ مسافر سفر کرتے ہیں ، اور پھر ڈینور کا انٹر نیشنل ائیر پورٹ تو امریکا کے چند ایک بڑے ائیر پورٹ میں گنا جاتا ہے،ہمہ وقت کئی

 ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں Read Post »

 ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں اور اب تو ’ جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کرنے والے بچے چالاک ‘ سے زیادہ ذہین گردانے جاتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف اشیا اپنی ماہیت بدل دیتی ہیں بلکہ گزشتہ کل کی اقدار ہی کے نہیں لفظوں کے

 ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں Read Post »

  اب تو ہر شخص نے چہرے پہ لہو پہنا ہے

اب تو ہر شخص نے چہرے پہ لہو پہنا ہے بہت دنوں کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن پشاور مرکز جانا ہوا تو اس مرکز میں بیتا ہوا سارا زمانہ جیسے آنکھوں کے سامنے آ گیا، فورٹ روڈ سے جب یہ مرکز موجودہ عمارت میں منتقل ہوا تو فنکار،پیشکار اور انتظامیہ سب بہت خوش تھے اردو

  اب تو ہر شخص نے چہرے پہ لہو پہنا ہے Read Post »

 دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار

دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار ڈینور ائر پورٹ سے اڑان بھرنے کے بعد سے لے کر اب تک مجھے لیپ ٹاپ کھولنے کا موقع نہیں ملا، یہی خود سے طے کیا تھا کہ اب پشاور پہنچ کر ہی لیپ ٹاپ کا بیگ کھولوں گا اگر چہ مختلف ائرپورٹس کے سیکیورٹی زونز سے گزرتے وقت لیپ

 دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار Read Post »

 نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون

نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون اب کے پشاور سے مجھے نکلے ہوئے کم و بیش چھے ماہ ہونے کو آئے ہیں اس لئے بہت سے دوستوں کی طرف سے مسلسل پیار بھرے پیغامات بھی مل رہے ہیں اور کچھ دوست فون پر بھی یاد دلاتے رہتے ہیں کہ سفر طویل ہو

 نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون Read Post »

 اب میں ہوں او ر ماتم ِ یک شہر ِ آرزو

اب میں ہوں او ر ماتم ِ یک شہر ِ آرزو وقت مٹھی میں پکڑی ریت کی طرح لمحہ لمحہ گزرتا جارہا ہے اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے دن اور رات ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہوئے مہ و سال میںڈھل جاتے ہیں اسد اللہ خان غالب کہتے ہیں۔ رَو میں ہے رخش ِ عمر ،

 اب میں ہوں او ر ماتم ِ یک شہر ِ آرزو Read Post »

Scroll to Top